کالج کی لائبریری کی کھڑکی سے اندر آتی دھوپ نے ہمیشہ کی طرح عائشہ کے دل کو چھوا، مگر آج یہ دھوپ کچھ زیادہ ہی گرم تھی۔ اس کے ہاتھ میں کتاب تو تھی، مگر نظریں بار بار سامنے بیٹھے سمیر پر اٹک رہی تھیں، جس کی ہنسی اور اس کی آنکھوں میں چمک جیسے اس کے وجود میں ایک نئی حرارت بھر رہی تھی۔ عائشہ کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ کالج کی راہداریاں اس کے لیے ایسی پرجوش کیفیات کا آغاز بنیں گی، ایک ایسی hot college romance story short جس کی ابتداء بھی ایسی ہی غیر متوقع ہوگی۔
سمیر نے سر اٹھایا اور اس کی نظروں سے نظریں مل گئیں۔ اس کے ہونٹوں پر ایک دلکش مسکراہٹ پھیل گئی اور عائشہ کے دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں۔ وہ دھیرے سے اٹھا اور اس کی میز کے قریب آ کر سرگوشی کی۔ “پڑھائی کیسی چل رہی ہے؟ یا آج کل تمہارا دھیان کہیں اور ہے؟” اس کی آواز میں شوخی تھی، مگر آنکھوں میں گہری سنجیدگی۔
عائشہ کے گال ہلکے سے گلابی ہو گئے، “کیا مطلب؟ میں تو پوری توجہ سے پڑھ رہی ہوں۔” اس نے کتاب کی طرف اشارہ کیا، مگر اس کی نظریں ایک بار پھر سمیر کے چہرے پر ٹک گئیں۔
“مجھے نہیں لگتا۔ تمہاری آنکھیں کچھ اور ہی کہہ رہی ہیں۔” سمیر نے کرسی کھینچی اور اس کے بالکل قریب بیٹھ گیا۔ اس کی قربت نے عائشہ کے حواس پر ایک عجیب سرشاری طاری کر دی۔ ان کے کندھے آپس میں ہلکے سے چھو رہے تھے اور اس لمس کی حدت عائشہ کے پورے وجود میں پھیل گئی۔ “یا شاید یہ محض میری خوش فہمی ہے کہ آج مجھے کوئی دیکھ رہا تھا؟”
عائشہ نے شرما کر نظریں جھکالیں۔ “تمہیں غلط فہمی ہوئی ہوگی۔”
“ممکن ہے۔” سمیر نے ہلکے سے ہنسا، مگر اس کا ہاتھ دھیرے سے میز پر پڑے عائشہ کے ہاتھ کے قریب سرک آیا۔ “لیکن کبھی کبھی غلط فہمیاں بھی بہت خوبصورت ہوتی ہیں۔ ہے نا؟” اس کے لمس کا انتظار ہی جیسے عائشہ کے سانسوں کی رفتار بڑھا رہا تھا۔ یہ ایک ایسا لمحہ تھا جب ان کی hot college romance story short نے ایک نیا موڑ لیا۔
وہ دونوں کچھ دیر خاموش بیٹھے رہے، صرف ایک دوسرے کے قریب ہونے کا احساس ہی کافی تھا۔ لائبریری کی پرسکون فضا میں ان کے دلوں کی دھڑکنیں ہی سب سے اونچی آواز میں گونج رہی تھیں۔ سمیر نے دھیرے سے عائشہ کا ہاتھ تھاما۔ اس کا لمس نرم اور پرجوش تھا، جیسے اس کے اندر کی آگ کو چھو لیا ہو۔
“کاش یہ لمحہ کبھی ختم نہ ہو۔” سمیر نے سرگوشی کی۔
عائشہ نے اپنی نظریں اٹھائیں اور اس کی گہری آنکھوں میں دیکھا۔ “کاش…” اس کی آواز بھی بمشکل نکل پائی۔
“ہمیشہ کے لیے میرے ساتھ رہوگی؟” سمیر نے اس کے ہاتھ پر اپنا انگوٹھا پھیرا۔
عائشہ نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا۔ اس کی آنکھوں میں ایک حسین خواب چمک رہا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ یہ صرف ایک آغاز تھا، ان کی کالج کی محبت کی کہانی کا، جو وقت کے ساتھ اور گہری اور پرجوش ہوتی چلی جائے گی۔ یہ ان کی زندگی کی سب سے حسین hot college romance story short بننے والی تھی۔
اس دن کے بعد، کالج کی راہداریاں، کیفے کی میزیں اور لائبریری کے خاموش گوشے ان کی محبت کے گواہ بن گئے۔ ہر روز ایک نئی امید، ایک نئی چاہت اور ایک نئی قربت کے ساتھ ان کا تعلق مضبوط ہوتا گیا۔ ان کا رومانس کالج کے ہر کونے میں ایک گرم جوشی لیے پھرتا تھا۔ یہ صرف ایک مختصر کہانی نہیں تھی، یہ ان کے ہمیشہ کے سفر کی پہلی منزل تھی۔
Leave a Reply