دفتری عشق کی سرگوشی: ایک خفیہ رومانس

دفتر کی سنسان راہداریوں میں، جہاں صرف پرانے ایئر کنڈیشنر کی مدھم آواز گونج رہی تھی، علي کو معلوم تھا کہ آج رات کچھ خاص ہونے والا ہے۔ گھڑی دس بجا چکی تھی اور زیادہ تر سٹاف جا چکا تھا۔ صرف وہ اور زارا باقی تھے۔ ان کی یہ چھپی ہوئی دفتری رومانس (secret office romance short read) اس وقت اپنے عروج پر تھی، ہر نظر، ہر لمس ایک خفیہ زبان بولتا تھا۔

زارا اپنی ڈیسک پر کچھ فائلیں ترتیب دے رہی تھی، اس کے چہرے پر تھکن اور تناؤ واضح تھا۔ علی اپنی ڈیسک سے اٹھا اور اس کی طرف بڑھا۔ اس کے قدموں کی آہٹ سن کر زارا نے سر اٹھایا۔ ان کی نگاہیں ملیں اور ایک لمحے کو جیسے وقت تھم سا گیا۔ زارا کی آنکھوں میں وہ چمک تھی جو علی اچھی طرح پہچانتا تھا – چاہت اور بے چینی کا امتزاج۔

“سب ٹھیک ہے؟” علی نے سرگوشی کی۔ اس کی آواز اتنی دھیمی تھی کہ بمشکل سنائی دی۔

زارا نے ایک گہرا سانس لیا۔ “بس یہ فائنل رپورٹ… سمجھ نہیں آ رہا کیسے مکمل کروں۔”

علی اس کی کرسی کے قریب آ کر کھڑا ہو گیا، اس کا لمس ہوا میں بھی محسوس کیا جا سکتا تھا۔ اس نے زارا کے کمپیوٹر کی سکرین کی طرف جھکا۔ “دیکھو، میں مدد کر سکتا ہوں۔”

اس کے جسم کی گرمی اور پرفیوم کی ہلکی خوشبو زارا کو اپنی لپیٹ میں لے رہی تھی۔ جب علی کا ہاتھ ماؤس پر موجود اس کے ہاتھ سے ٹکرایا، تو ایک سنسناہٹ زارا کے پورے جسم میں دوڑ گئی۔ ان کے ہاتھ کچھ دیر یوں ہی ٹھہرے رہے، ایک دوسرے کا وجود محسوس کرتے ہوئے۔ علی نے زارا کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک گہری خواہش تھی، جس سے زارا کا دل بے اختیار دھڑکنے لگا۔

“علی…” زارا کی آواز حلق میں پھنس گئی۔

علی نے آہستگی سے اس کے ہاتھ پر اپنا انگوٹھا پھیرا۔ “کیا ہوا، زارا؟”

“کچھ نہیں…” زارا نے سر جھکا لیا، اس کے گالوں پر سرخی پھیل چکی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ یہ محض ایک کام کی مدد نہیں تھی۔ یہ ان کی خفیہ دفتری رومانس (secret office romance short read) کا ایک اور خوبصورت اور خطرناک لمحہ تھا۔

علی نے اپنا ہاتھ پیچھے ہٹایا اور اس کی کرسی کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔ اس نے ہلکے سے زارا کے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھا۔ اس کا لمس بجلی کی طرح تھا۔ “میں جانتا ہوں تم کیا سوچ رہی ہو، زارا۔”

زارا نے پھر سر اٹھایا، اس کی آنکھوں میں نمی سی تھی۔ “کیا ہم غلط کر رہے ہیں؟”

“شاید…” علی نے اس کے بالوں میں اپنی انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا، “مگر جب تم قریب ہوتی ہو، تو مجھے کوئی ‘غلط’ نظر نہیں آتا۔”

اس کے الفاظ میں اتنا خلوص تھا کہ زارا خود کو روک نہ پائی۔ وہ اٹھی اور علی کی طرف مڑی، دونوں کے درمیان فاصلہ اب نہ ہونے کے برابر تھا۔ ان کی سانسیں ایک دوسرے سے ٹکرا رہی تھیں۔ علی نے اپنا ہاتھ اس کی کمر پر رکھا اور اسے آہستہ سے اپنی طرف کھینچا۔ زارا نے اپنی آنکھیں بند کر لیں، اس کا دل سینے میں زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ اس لمحے وہ دنیا کی ہر چیز بھول چکی تھی۔ صرف علی کا لمس، اس کی قربت اور اس کی گہری آنکھیں اہمیت رکھتی تھیں۔ یہ کہانی ایک دلکش خفیہ دفتری رومانس (secret office romance short read) کی تھی، جو دفتر کی چار دیواری میں دو دلوں کو قریب لاتی تھی۔

علی نے جھک کر اس کے کان کے قریب سرگوشی کی۔ “تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو، آج رات۔”

اس کی گرم سانسوں نے زارا کے اندر آگ سی لگا دی۔ وہ علی کے بازوؤں میں خود کو محسوس کر رہی تھی، اس کی گرفت مضبوط ہو رہی تھی۔ ان کے لب قریب آ رہے تھے جب اچانک نیچے سے لفٹ کھلنے کی آواز آئی اور سیکورٹی گارڈ کی آواز گونجی۔ “کوئی ہے؟”

دونوں ایک دم سے چونکے۔ علی اور زارا بجلی کی سی تیزی سے ایک دوسرے سے الگ ہوئے۔ زارا اپنی کرسی پر بیٹھ گئی اور کمپیوٹر کی طرف دیکھنے لگی جیسے وہ کام کر رہی ہو، اور علی اپنی ڈیسک کی طرف واپس بھاگا۔ ان کے دل ابھی بھی دھڑکنوں کا شور مچا رہے تھے، مگر چہروں پر ایک ٹھہراؤ تھا۔

سیکورٹی گارڈ قریب آیا، ایک نظر دونوں پر ڈالی اور بولا، “کیا سب ٹھیک ہے، سر میم؟ دفتر بند کرنے کا وقت ہے۔”

“جی بالکل، بس یہ آخری رپورٹ ختم کر رہے تھے۔ بس جا ہی رہے ہیں،” علی نے مسکراتے ہوئے کہا۔

گارڈ سر ہلا کر چلا گیا۔ اس کے جاتے ہی علی اور زارا نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ ان کی نگاہوں میں ایک نئی چمک، ایک نئی شدت تھی۔ یہ لمحہ بچ نکلا تھا، اور اس بچ نکلنے میں ایک نیا نشہ تھا، ایک نئی امید۔

“کل رات…” علی نے ایک لمحہ ٹھہر کر کہا۔

زارا مسکرائی، اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ “میں جانتی ہوں۔”

وہ خاموشی سے دفتر سے نکلے، ان کے قدم آہستہ تھے، مگر ان کے دل تیزی سے ایک نئی ملاقات کا انتظار کر رہے تھے۔ دفتر کی سرد دیواروں کے پیچھے ان کا عشق ابھی زندہ تھا۔


Posted

in

by

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *