اس کی نظروں کی گرمی نے زارا کے رگ و پے میں ایک عجیب سی لہر دوڑا دی، جیسے دفتر کی سرد دیواریں بھی پگھلنے لگی ہوں۔ شام ڈھل چکی تھی اور دفتر کی روشنیاں مدھم ہو گئی تھیں، صرف ان کے کیبن سے ہلکی سی روشنی باہر چھن کر آ رہی تھی۔ حمزہ، اس کا باس، مسکراتا ہوا اس کے سامنے بیٹھا تھا، اور اس کی مسکراہٹ ہمیشہ سے زیادہ معنی خیز لگ رہی تھی۔
“زارا، یہ پروجیکٹ واقعی بہترین ہے۔ تمہاری محنت نے اسے چار چاند لگا دیے ہیں،” حمزہ نے نرم آواز میں کہا، اس کی نگاہیں زارا کے چہرے پر ٹکی تھیں۔
زارا کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔ وہ جانتی تھی کہ یہ صرف پروجیکٹ کی بات نہیں تھی۔ گزشتہ کئی مہینوں سے ان کے درمیان ایک ان کہی کشش، ایک خاموش قربت بڑھ رہی تھی۔ دفتر کے لمحات، کافی بریک کے بہانے بڑھتے ہوئے مکالمے، دیر رات کی ای میلز جن میں پیشہ ورانہ گفتگو سے زیادہ ایک دوسرے کا خیال جھلکتا تھا۔ یہ ایک باس اور ملازم کا معاشقہ تھا جو ہر گزرتے دن کے ساتھ گہرا ہوتا جا رہا تھا۔
“شکریہ سر، یہ آپ کی رہنمائی کا کمال ہے،” زارا نے جواب دیا، اس کی آواز میں ہلکی سی تھرتھراہٹ تھی۔ اس نے نظریں جھکا لیں کیونکہ حمزہ کی گہری آنکھوں میں وہ سب کچھ تھا جو کہنا ممنوع تھا۔
حمزہ کرسی سے اٹھا اور دھیرے دھیرے زارا کی میز کی طرف آیا۔ اس کے قدموں کی آہٹ سے فضا میں تناؤ بڑھتا چلا گیا۔ زارا کی سانسیں اٹک سی گئیں جب حمزہ اس کے قریب آ کر کھڑا ہو گیا۔ اس نے اپنا ہاتھ زارا کی کرسی کے پچھلے حصے پر رکھا، اور زارا کو لگا کہ اس کے کندھے سے اس کے ہاتھ کا لمس چھو گیا ہے۔ بجلی کی ایک لہر اس کے پورے جسم میں دوڑ گئی۔
“کبھی کبھی مجھے لگتا ہے زارا، کہ ہم صرف کولیگز نہیں ہیں،” حمزہ نے سرگوشی کی۔ اس کی آواز میں ایک ایسا سرور تھا جو زارا کو مدہوش کر گیا۔
زارا نے ہمت کر کے نظریں اٹھائیں اور ان کی نگاہیں ملیں۔ اس وقت ان کی آنکھوں میں وہ سب کچھ عیاں تھا جو وہ ایک دوسرے سے کہنا چاہتے تھے۔ دنیا کی تمام رکاوٹیں، تمام ضابطے اس لمحے بے معنی ہو گئے تھے۔ حمزہ کا چہرہ دھیرے دھیرے زارا کے قریب آنے لگا۔ وہ اس کی سانسوں کی گرمی اپنے چہرے پر محسوس کر سکتی تھی۔ اس کے جسم کا ہر ریشہ اس لمحے کے لیے پیاسا تھا۔
“حمزہ…” زارا نے بمشکل کہا۔ اس کا دل سینے سے نکلنے کو بے تاب تھا۔
“ش..ش…” حمزہ نے اپنی انگلی اس کے لبوں پر رکھی۔ اس کے لمس نے زارا کے اندر ایک ایسی آگ بھڑکا دی جسے بجھانا ممکن نہیں تھا۔ شہر میں باس اور ملازم کا معاشقہ ایک عام بات نہ تھی، مگر ان کی کیمسٹری سب سے جدا تھی۔ ان کے ارد گرد کی دنیا سکڑ کر صرف ان دونوں میں سمٹ گئی تھی۔ حمزہ نے آہستہ سے زارا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اس کے ہاتھ کی گرفت مضبوط اور پرسکون تھی۔ وہ اسے یقین دلا رہا تھا کہ وہ اکیلی نہیں ہے۔
“ہم جانتے ہیں کہ یہ غلط ہے،” زارا نے آہستہ سے کہا، مگر اس کی آنکھوں میں کوئی پشیمانی نہیں تھی۔ بلکہ ایک گہری چاہت تھی جو اب کھل کر سامنے آ چکی تھی۔
حمزہ نے زارا کے ہاتھ کو ہلکے سے چوما۔ “غلط ہو یا صحیح، میں تمہیں کھونا نہیں چاہتا، زارا۔”
اس کے الفاظ نے زارا کے دل کو چھو لیا۔ یہ ایک ایسا اقرار تھا جس کا وہ طویل عرصے سے انتظار کر رہی تھی۔ اس نے حمزہ کے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں بھینچ لیا۔ اس لمحے، ان کی دفتری حدود مٹ چکی تھیں، اور ایک نئی کہانی کا آغاز ہو رہا تھا۔ انہوں نے جانا کہ ان کا باس اور ملازم کا معاشقہ اب ایک حقیقت بن چکا تھا، ایک حقیقت جسے چھپانا مشکل تھا، مگر جسے جینا وہ دونوں چاہتے تھے۔ ان کے لیے، دفتر کی یہ چار دیواری اب صرف کام کی جگہ نہیں تھی، بلکہ ان کی محبت کا سب سے خوبصورت پناہ گاہ بن چکی تھی۔ اور اس لمحے، وہ جان گئے کہ یہ محض ایک آغاز تھا۔
Leave a Reply