خالہ زاد Story 2 in Urdu
آمنہ کے دل کی دھڑکنیں تیز ہو رہی تھیں۔ اس نے اپنی خالہ کے گھر قدم رکھا تو ایک ایسی خوشبو نے اسے گھیر لیا جو اسے آج تک کسی خوشبو سے نہ ملی تھی۔ یہ کوئی خوشبو نہیں تھی، یہ تو بس وہ تھا… وہ، جو اس کے بچپن کا ساتھی تھا، اس کا خالہ زاد بھائی، علی۔ اسے یاد آیا جب وہ بچپن میں ایک ساتھ کھیلا کرتے تھے، ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر باغوں میں دوڑا کرتے تھے۔ مگر آج وہ بچپن نہیں تھا، آج وہ جوان ہو چکی تھی، اور علی بھی۔
وہ کمرے میں داخل ہوئی جہاں وہ پہلے سے موجود تھا۔ علی اسے دیکھ کر مسکرایا، اس کی آنکھوں میں ایک ایسی چمک تھی جو آمنہ نے پہلے کبھی محسوس نہیں کی تھی۔ اس کی مسکراہٹ میں وہ اپنائیت تھی جو صدیوں کی طرح محسوس ہوئی۔ آمنہ کی نظریں اس کے چہرے پر ٹھہر گئیں، اس کی گہری بھوری آنکھیں، اس کے ہونٹوں کی خمیدہ لکیر، اس کے بالوں میں تھوڑی سی بے ترتیبی… سب کچھ اسے دیوانہ کر رہا تھا۔
“آمنہ، تم آ گئیں؟” علی کی آواز شہد کی طرح میٹھی تھی۔ اس نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور آمنہ کا ہاتھ تھام لیا۔ اس کا لمس، جو کبھی صرف بھائی کا لمس محسوس ہوتا تھا، آج بجلی کے کرنٹ کی طرح اس کے پورے جسم میں دوڑ گیا۔ اس کی ہتھیلی کی گرمی، اس کی انگلیوں کی گرفت… آمنہ نے خود کو قابو کرنے کی کوشش کی، مگر اس کی سانسیں تیز ہو گئیں تھیں۔
“ہاں، علی۔ بس ابھی پہنچی ہوں۔” اس کی آواز کانپ رہی تھی۔ اس نے اپنا ہاتھ کھینچنے کی کوشش کی، مگر علی کی گرفت مضبوط تھی۔ وہ اسے اپنی طرف کھینچ رہا تھا، اور آمنہ خود کو روک نہ سکی۔ وہ اس کے قریب آ گئی، اتنی قریب کہ وہ اس کی سانسوں کو اپنی جلد پر محسوس کر سکتی تھی۔
“تمہاری آنکھیں آج کچھ کہہ رہی ہیں، آمنہ۔” علی نے سرگوشی کی۔ اس کی آنکھوں میں ایک ایسی گہرائی تھی جو آمنہ کو اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ وہ اس کے چہرے کا ہر زاویہ دیکھ سکتی تھی، اس کے ہونٹوں کی وہ نرمی جو اسے بے تاب کر رہی تھی۔
“کیا کہہ رہی ہیں، علی؟” آمنہ نے ہمت کر کے پوچھا۔ اس کی خود پر قابو رکھنے کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی تھیں۔ وہ اس کے قریب کھڑی تھی، اس کی سانسیں گرم تھیں، اس کی دل کی دھڑکنیں بے قابو تھیں۔
“کہہ رہی ہیں کہ تم بھی مجھے ویسے ہی چاہتی ہو، جیسے میں تمہیں چاہتا ہوں۔” علی نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔ اس کی آواز میں ایک ایسی شدت تھی جس نے آمنہ کے دل کو دہلا دیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جس کا وہ نہ جانے کتنے عرصے سے انتظار کر رہی تھی، اور جس سے وہ ڈر بھی رہی تھی۔
اس نے اپنا دوسرا ہاتھ اٹھایا اور علی کے گال پر رکھا۔ اس کی جلد نرم تھی، گرم تھی۔ آمنہ نے محسوس کیا کہ اس کا دل جیسے سینے سے باہر نکل آئے گا۔ علی نے اس کے ہاتھ کو اپنے گال پر تھام لیا، اور اس کی آنکھیں بند کر لیں۔
“میں تمہیں چاہتا ہوں، آمنہ۔ بہت زیادہ چاہتا ہوں۔” علی نے آنکھیں کھولتے ہوئے کہا۔ اس کی آنکھیں اب سوالیہ نہیں تھیں، وہ شدت سے بھری ہوئی تھیں۔ وہ لمحہ آ گیا تھا جب سب کچھ بدلنے والا تھا۔
آمنہ نے کوئی جواب نہیں دیا، مگر اس کی آنکھیں سب کہہ رہی تھیں۔ اس نے اپنا چہرہ علی کے قریب کیا، اور وہ دونوں سانسیں روکے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ پھر، آہستہ آہستہ، ان کے ہونٹ ملے… یہ ایک نرم، نازک بوسہ تھا، جس میں بچپن کی یادیں، جوانی کی تڑپ، اور ایک دوسرے کے لیے بے پناہ محبت شامل تھی۔
بوسہ گہرا ہوتا چلا گیا۔ علی کی ایک ہاتھ آمنہ کی کمر پر مضبوط ہو گیا، اور اس نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔ آمنہ نے اپنی انگلیوں کو علی کے بالوں میں پھنسایا۔ وہ ایک دوسرے میں گم ہو گئے تھے۔ دنیا جیسے تھم سی گئی تھی۔ ان کی روحیں ایک دوسرے سے ہم کلام ہو رہی تھیں۔
علی نے آمنہ کے ہونٹوں سے ہونٹ ہٹائے، مگر وہ بہت قریب تھے۔ ان کی سانسیں ابھی بھی ایک دوسرے میں الجھی ہوئی تھیں۔ “میں تمہیں کھونا نہیں چاہتا، آمنہ۔” علی نے سرگوشی کی۔
“میں بھی تمہیں نہیں، علی۔” آمنہ نے کانپتی آواز میں جواب دیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر وہ خوشی کے آنسو تھے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ان کا رشتہ، جو صرف خالہ زاد بھائی بہن کا تھا، ہمیشہ کے لیے بدل گیا تھا۔ یہ ایک نئی شروعات تھی، ایک ایسی شروعات جو محبت، جنون اور گہرے جذبات سے بھری ہوئی تھی۔